Det gamle Egypt // قدیم مصر

Denne teksten finnes på flere språk. Tanken er at teksten skal være et supplement til andre læremidler og andre aktiviteter i opplæringen. Det er altså ikke meningen at disse ressursene skal stå alene, men at de kan brukes i innledning til arbeid med temaet.

Teksten kan, for eksempel, brukes sammen med tospråklig lærer for å aktivere elevenes kunnskaper om temaet, og å bidra til at eleven lærer fagspråk.

قدیم مصر اور دریائے نیل

قدیم مصر کا زیادہ تر حصہ ریگستان پر پھیلا ہوا تھا۔
دریائے نیل کے بغیر یہاں انسانوں کا رہنا نا ممکن تھا ۔ نیل دنیا کا سب سے لمبا دریا ہے جو کئی ممالک سے گزرتا ہے۔ اس دریا کی چوڑائی مصر سے گزرتے ہوے سب سے زیادہ ہوتی ہے اور پھر بحیر ہ روم میں جا گرتا ہے۔
میسوپوٹیمیا کی طرح یہاں بھی دریا زراعت اور بقا کے لئے بہت اہم تھا ۔ مصر میں سیلاب سال کے مقررہ وقت پر آ تا تھا ۔ ہر سال جولائی سے لے کر اکتوبر تک سیلاب کا وقت ہوتا تھا۔ چونکہ مصریوں کو معلوم ہوتا تھا کہ سیلاب کب آئے گا ، اس لیے وہ شہروں او ر کھیتوں کے گرد حفاظتی دیواریں بنا کر اور اپنے ڈیموں کو پانی سےخالی کر کے تیاری کر لیتے تھے۔ یہاں کے سیلاب میسوپوٹیمیا جتنے خطرناک نہیں ہوتے تھے ۔
بہت سے مصری کسان تھے۔ وہ کھیتی باڑی کرتے، جانور پالتے، شکار کرتے اور مچھلیا ں پکڑتے تھے۔ انُ میں سے کچھ کا ر یگر تھے، مثلاً معمار ، نا نبا ئی ، کشتی بنانے والےاور لو ہار۔
کھیتو ں میں کسان کپاس اُ گاتےتھے جس سے عورتیں کپڑے بنتی تھیں۔ دریا کے کنارے کچھ خاندان ایک خاص قسم کی جھاڑی جمع کرتے تھے جسے پیپائرس کہا جاتا ہے ۔ جس سے وہ دوسری چیزوں کے علاوہ سینڈل ، کشتیاں اور کاغذ بنایا کرتے تھے۔ لفظ پیپر اسی جھاڑی کے نام سے نکلا ہے۔ مصریوں نے لکھنے کا ایک نظام تیا ر کیا تھا جسے ہیئروگلیفکس کہا جاتا ہے۔ میسوپوٹیمیا کے لوگ مٹی کی تختیوں پر لکھتے تھے ، جبکہ مصری پیپائرُس پر لکھتے تھے۔

Detaljert utsnitt av egyptiske hieroglyfer skåret i en vertikal steinplate. Symbolene inkluderer blant annet en fugl, en sittende person og ulike geometriske figurer. Overflaten er slitt og ujevn, med spor av alder og erosjon.
قدیم مصری رسم الخط یا ہیروگلیفکس
Fargerikt egyptisk papyrusbilde med gule, røde, grønne og blå detaljer som viser guder som veier den avdødes hjerte foran Osiris.
قدیم مصر کی ایک تصویر، جو پیپائرس پر بنی ہوئی ہے، جس میں دیوتاؤں کو دکھایا گیا ہے کہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ کس شخص کا دل کافی مہربان ہے یا نہیں ۔ دائیں طرف کا دیوتا اوسائرس سفید لباس میں بیٹھے نگرانی کر رہے ہیں۔

فرعون

مصر میں بادشاہ بہت طاقت ور ہوتا تھا۔ وہ بہت بڑےاور شاندار محل میں رہتا تھا، اور اس کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ اس بات کا خیال رکھے کہ عوام خوش حال ر ہیں۔ مصریوں کا ماننا تھا کہ وہ خدا کا بیٹا ہے ، اور ا سی لیے وہ اس کا نام لینے کی ہمت نہیں کرتے تھے ۔ لہٰذا وہ اسے فرعون کہتے تھے ، جس کا مطلب ہے "عظیم محل”۔ فرعون بننے کا عمل باپ سے بیٹے کو وراثت میں ملتا تھا ۔ شہریوں کو فرعون کو ٹیکس ادا کرنا پڑتا تھا۔ وہ آجکل کی طرح پیسوں کی صورت میں ٹیکس نہیں دیتے تھے بلکہ فرعون کو ملک میں اُ گائی جانے والی فصلوں اور بنائی جانے والی چیز وں کا ایک حصہ ملتا تھا ۔ فرعون بند، آبپا شی کی نہریں اور عبادت گاہیں (مندر ) تعمیر کرواتا تھا ۔ اور لوگوں کو ان کاموں میں مدد کرنی پڑتی تھی۔

Utsikt over Hatshepsuts tempel ved Luxor, der tempelstrukturen er integrert i en lys kalksteinsklippe
قدیم مصر  کی چند خواتین فرعونوں میں سے ایک تھیں جنہوں نے اٹھارہویں خاندان کے دوران ہاتشیپسوت میں حکمرانی کی۔ وہ ایک پرامن اور خوشحال دور حکومت کے لیے مشہور ہیں اور شاندار مردہ خانہ مندر دیر البحری میں تعمیر کے لیے پہچانی جاتی ہیں۔

اہرام

Foto av pyramidene på Giza-platået i Egypt, med flere store pyramider i bakgrunnen og en gruppe kamelryttere som krysser ørkensanden i forgrunnen.
مصر کے شہرگیزہ کے میدانی علاقے میں اہرامات۔

مصر اپنے عظیم اہراموں کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے ، جو ملک کے کچھ بادشاہوں کے مقبرے تھے۔ مصریوں کا مرنے کے بعد کی زندگی پر یقین تھا۔ اسی لئے بادشاہوں کو اچھی طرح دفن کرنا بہت اہم سمجھا جاتا تھا۔ ان کے ساتھ سونا ، کھانا ، کپڑے اور ہتھیار رکھے جاتے تھے تاکہ وہ اپنی اگلی زندگی میں انہیں استعمال کر سکیں ۔مردہ جسموں کو محفوظ رکھنے کے لئے لاشوں کو پٹیوں میں لپیٹ کر ممیاں بنایا جاتا تھا۔

Fargerik veggmaleri i gammel egyptisk stil som viser flere stående figurer i tradisjonelle klær og hodeplagg, malt på en gyllen bakgrunn med hieroglyfer over.
طوطن خا من کے مقبرے کی دیوار پر بنی تصویر ۔طوطن خامن مصرکا ایک نوجوان بادشاہ تھا، اس کے مقبرے کے کمرے میں موجود تصاویر اس کی موت کے بعد کی زندگی کےسفر کی کہانی بیان کر تی ہیں ۔

سب سے پہلے مردہ جسم کو ایک خاص طریقے سے دھویا جاتا تھا ، پھر دماغ اور اندرونی اعضاء، سوا ئے دل کے، نکال کر الگ برتنوں میں رکھ دیے جاتے تھے، جسم پر مختلف مرہموں اور تیلوں سے مالش کی جاتی تھی۔ اس کے بعد پورے جسم کو لمبی پٹیوں میں لپیٹ دیا جاتا تھا ۔ آخر میں ، ممی کو ایک خاص تابوت میں رکھا جاتا تھا جس کے باہر مرنے والے کی تصویر بنی ہوتی تھی۔

En skinnende kopi av Tutankhamons berømte gullmaske, dekorert med blå striper og fine mønstre slik faraoen i Egypt brukte for over 3000 år siden.
طوطن خامن کے مشہور سونے کے ماسک کی ایک نقل، جسے نیلی دھاریوں اور خوبصورت نقش و نگار کے ساتھ سجایا گیا ہے، بالکل اسی طرح جیسے 3000 سال پہلے مصر کے فرعون پہنا کرتے تھے۔

کئی فرعونوں اور کچھ نہایت امیر لوگوں کو انُ کے اپنے مخصوص اہراموں میں دفن کیا گیا تھا۔ مصر میں تقریباً پچاس اہرام تعمیر کیے گئے تھے۔ان میں سب سے بڑا "خوفو کا ا ہرام ” ہے ، جس کا نا م اس بادشاہ کے نام پر رکھا گیا ہے جو وہاں دفن تھا ۔ بادشاہ خوفو نے تقریباً 2566 سے لے کر 2589 قبل مسیح تک حکومت کی تھی ۔ یہ اہرام گیزہ کے ریگستان میں واقع ہے, جومصر کے موجودہ دارالحکومت قاہرہ کے بالکل باہر ایک علاقہ ہے ۔ بادشاہوں کی وادی میں بھی ، جو لکسر شہر کے قریب واقع ہے شاہی مقبرے اور ممیاں ملی ہیں ۔

کیا آپ جانتے  ہیں؟

  • مصر کا 96 فیصد حصہ درحقیقت ریگستان ہے۔
  • دریائے نیل 6500 کلومیٹر لمبی ہے۔
  • مصر کے اہرام دنیا کے سات عجائبات میں سے ایک مانے جاتے ہیں ۔ کیا آپ معلوم کر سکتے ہیں کہ دنیا کے چھ دوسرےعحائب کون کون سے ہیں؟
  • اہرام خوفو 137 میٹر اونچا ہے، جسے ڈھائی ملین بڑے بڑے پتھروں کو جوڑ کر بنایا گیا تھا۔
  • اہرام کی چوٹی سونے کی بنی ہوئی تھی ۔
  • دیگر مشہور اہرام میکسیکو اور پیرو میں بھی پائے جاتے ہیں۔
  • وقت کے ساتھ ساتھ بہت سے لٹُیروں نے اہرام سے خزانے لوٹے ہیں۔
Foto av den store sfinxen ved Giza, en monumental steinskulptur med løvekropp og menneskehode, omgitt av ørkensand og med pyramider i bakgrunnen under en klar blå himmel
قدیم مصر میں اسفینکس طاقت، حکمت اور تحفظ کی علامت کے طور پر بنائے جاتے تھے۔ انہیں اکثر مقدس مقامات کی حفاظت کے لیے مندروں اور مقبروں کے پاس رکھا جاتا تھا۔ سب سے مشہور گیزہ کا "عظیم اسفنکس "ہے— جو کہ ایک بہت بڑی یادگار ہے جسے براہِ راست پہاڑ سے تراش کر بنایا گیا ہے۔